top of page

Untitled

  • Writer: Amal atif
    Amal atif
  • Jun 28, 2022
  • 7 min read

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن , ہر پیکرِ تصویر کا

دیوانِ غالب کا پہلا اور کثیر الجہتی شعر ہے.

اس شعر کی مثال اردو ادب تو کیا عالمی ادب میں ملنی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ البتہ اس شعر سے جزوی مماثلت مولانا روم کی مثنوی "بشنو از نے" رکھتی ہے۔ لیکن اس میں غالب کے مطالب میں سے ایک ہی مطلب جزوی طور پر بیان ہوا ہے۔ اگر کسی نے حقیقت میں دریا نہیں بلکہ سمندر کوزے میں بند کیا ہے تو وہ غالب نے کیا ہے۔

کیا یہ کمال نہیں ہے کہ ایک ہی شعر بیک وقت حمدیہ بھی ہو , وجودی بھی ہو , طنزیہ بھی ہو , المیہ بھی ہو , اور اگر ایک خاص لہجے میں پڑھیں تو وہی شعر سننے والے کو آگ بگولا بھی کردے۔

اکثر لکیر کے فقیر اور ظاہر پسند شارحین نے عودِ ہندی میں شامل غالب کے خط کو حوالہ بنا کر بے تکی شرحیں کر کے اس شعر کو مہمل اور بے معنی کہا ہے۔لیکن ذکر اس پری وش کا اورپھر بیاں اپنا۔ جمالیاتِ غالب کا نظارہ ، جوگی جادوگر کے قلم سے پیش ہے۔

٭الفاظ اور ان کے معانی٭

٭٭نقش.... اسکیچ , شکل , صورت (کسی بھی چیز کی گرافیکل صورت)

٭٭فریادی.... فریاد کرنے والا. لیکن ہم نے اس ظاہر پر نہیں رہنا. غالب کو سمجھنا ہے تو لفظ کے پسِ پردہ عوامل پر غور کیجئے۔

فریادی کیا کرتاہے؟؟ فریاد کرتا ہے. فریاد کس طرح کی جاتی ہے؟؟ اونچی آواز میں کی جاتی ہے یا کانا پھوسی میں کی جاتی ہے؟

فریاد اونچی آواز میں کی جاتی ہے. اور اونچی آواز میں کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آس پاس موجود سب لوگوں تک آواز پہنچے اور سب کو متوجہ کرے.

یعنی فریاد کے وقت سے پہلے جو بات خفیہ تھی. اس بات کو فریاد کر کے پبلک کیا جاتا ہے. تاکہ سب کو پتا چل جائے.

٭٭شوخیِ تحریر..... تحریر کی شوخی. تحریر کی خوبصورتی۔ لیکن یہاں تحریر کا مطلب صرف حروف میں لکھی تحریر ہی نہیں ، بلکہ "قلم" کا ہر شاہکار تحریر ہے۔

جب ہم کوئی خوشخط تحریر دیکھتے ہیں تو بے اختیار یہی پوچھتے ہیں:- واہ یہ خوبصورت اور خوشخط تحریر کس نے لکھی ہے؟ اسی لیے فنکار (مصور , خطاط وغیرہ) پوری لگن سے اپنی ہر تخلیق پر محنت اور وقت صرف کرتے ہیں. تاکہ یہ ہاتھ کی صفائی اور ان کا فن (شوخیِ تحریر) ان کی پہچان بن جائے. آج بھی لوگ جب مونالیزا کو دیکھتے ہیں تو لیونارڈی ونچی کو یاد کرتے ہیں. حالانکہ اسے اس دنیا سے گزرے ہوئے صدیاں گزر گئیں. لیکن تصویر دیکھتے ہی اسے یاد کیا جاتا ہے.

٭٭کاغذی.... نفیس , باریک , مہین. کاغذ کو دیکھیے. وہ اس دنیا کے موجودات میں سے سب سے زیادہ کثیرالاستعمال اور نفیس ہے. اتنا اہم ہے لیکن وزن بالکل ہلکا. نفاست اتنی کہ پانی میں بھیگتے ہی پھٹ گیا. ہوا زور کی آئی تو اڑ گیا. ذرا سا درجہ حرارت بڑھا تو جل گیا. ایک سیکنڈ پہلے ٹھیک ٹھاک پڑا تھا. ایک سیکنڈ میں ہی ختم ہو کر ماضی بن گیا. جیسے کہ تھا ہی نہیں

٭٭پیرہن....لباس

٭٭پیکرِتصویر.... تصویرمیں موجود پیکر

٭مطلب٭

1:- ہر تخلیق اپنے خالق کے وجود کی دلیل ہے.

2:- یہ خوبصورت نقش بنانے والا خود کتنا خوبصورت ہوگا.

3:- تمام موجودات صرف ایک تصویری پیکر ہیں.

4:- اس تصویر میں موجود پیکر فریاد کر رہا ہے. مگر کس بات کی فریاد؟

5:- وغیرہ وغیرہ...

٭تشریح٭

پہلا مطلب ۔۔۔۔ تخلیق اپنے خالق کی دلیل

سوالیہ انداز میں جتایا گیا ہے کہ اگر تم کہتے ہو کہ کوئی خدا نہیں ہے. تو یہ سب تخلیق کس کی ہے؟ نیچر اتنا تنوع کیسے تخلیق کر سکتی ہے؟ جس بھی نقش (موجود چیز) کو دیکھ لو وہ اپنی ذات میں ایک مکمل تخلیق ہے.

اگر نیچر ہی تخلیق کار ہے. تو کوئی تصویر آج تک بغیر کسی مصور کے کیوں نہیں بنی؟

ایسا کیوں ممکن نہیں کہ سیاہی گرے اور غالب کے مقابلے کی ایک اردو غزل لکھی جائے.

اگر یہ ناممکن ہے تو پھر مان لو کہ اس شاہکار تخلیق جسے انسان کہتے ہو , اس کا بھی ایک خالق ضرور ہے.

دوسرا مطلب... خوبصورتی

واہ یہ خوبصورت گرافیکل انٹرفیس بنانے والے نے کیا ہی کمال تخلیق کی ہے. ایک خوبصورت دل اور خوبصورت سوچ والا دماغ ہی اس قدر خوبصورت دنیا اور اس قدر خوبصورت موجودات کو پلان کر کے ان کو تخلیق کرنے والا خود کتنا خوبصورت ہوگا.

خالق کہتا ہے کہ "(فریادی کی فریاد سے پہلے) میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا پھر میں نے چاہا کہ میں ظاہر ہو جاؤں تو میں نے کائینات تخلیق کی (فریادی وجود میں آ گیا)"

اب یہ موجودات ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے خوبصورتی کا مظہر ہیں (فریادی ہیں. اپنے ہونے سے وہ چھپا ہوا راز ایک دوسرے پہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہاں کوئی خدا ہے.)

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے. وہی خدا ہے.

دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے. وہی خدا ہے.

تیسرا مطلب....فریاد

تصویر جب تک کاغذ پر نہیں بنی ہوتی تو اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ ہے ہی نہیں؟؟ جی نہیں. کاغذ پر تو وہ بعد میں اترتی ہے..اس سے پہلے تو وہ مصور کے دماغ میں ہوتی ہے. ایک شاہکار غزل کاغذ پر تو بعد میں اترتی ہے. لیکن اس سے پہلے وہ شاعر کی سوچ میں ہوتی ہے.

بالکل اسی طرح ذرا اس وقت کا تصور فرمائیں. جب غالب کے الفاظ میں "نہ تھا کچھ تو خدا تھا" کچھ بھی نہیں تھا. نہ عدم و وجود نہ مکان و لامکاں... صرف اور صرف ایک خدا تھا. جو کہ بقول اس کے "چھپا ہوا خزانہ تھا".

لیکن اس وقت بھی اس کے علم میں تھا کہ وہ ایک کائینات تخلیق کرے گا. جس میں یہ یہ موجودات اور مخلوقات ہونگی. پس ثابت ہوا کہ ہم عالمِ ارواح سے پہلے خدا کے علم میں موجود تھے. خدا کے پلان آف تخلیق کا ایک حصہ تھے. یوں بالواسطہ اپنے مبدا سے جڑے تھے. پھر جب اللہ کو منظور ہوا کہ اب تخلیق شروع کی جائے تو کُن فرمایا. ثابت ہوا کہ ہم اس کُن کا ایک حصہ تھے. اور اس کُن کے ذریعے اپنے مبدا سے جدا ہو کر لاوجود سے وجود میں آ رہے تھے.

اپنی اصل سے یہ جدائی ایک اذیت ہے. اپنے جسم سے کچھ زندہ خلیے الگ کر کے دیکھیں. آپ کو لگ پتا جائے گا کہ چند خلیے یا کوئی عضو جسم سے جدا ہوتے وقت کیسا درد کرتا ہے. وہی جدائی کا درد ہے. وہ درد دراصل اس عضو کی فریاد ہے. راکٹ میں بیٹھے خلاباز سے پوچھیے کہ زمین کی کشش ثقل سے نکلتے وقت کیا اذیت سہنی پڑتی ہے. وہ اذیت اپنی اصل سے جدائی کی فریاد ہے.

غالب کے الفاظ میں "ڈبویا مجھ کو ہونے نے" اگر یہ ہونا نہ ہوتا. نہ یہ جسم ہوتا, نہ ہی یہ روح ہوتی تو میں آج بھی خدا کے علم میں اپنے مبدا سے جڑا ہوتا. تب نہ یہ دردِ جدائی ہوتا نہ ہی یہ فریاد ہوتی.

اسی لیے جب سے انسان اس دنیا میں آیا ہے اپنے مبدا سے واپس جا ملنے اور اپنی اصل کی تلاش میں ہے. اس تلاش کی تھکن اسے کہیں مندر بنا کر کہیں مسجد بنا کر دل کو تسلی دینے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کا رابطہ اپنی اصل سے قائم رہے. روح کی اپنے مبدا کی طرف کشش ہی دراصل عشقِ حقیقی ہے۔

دیر و حرم ، آئینہ تکرارِ تمنا

واماندگیِ شوق تراشے ہے پناہیں

پس یہ نقش (انسانی گرافکس) جو اتنے خوبصورت ہیں, اور یہ اس خدا کی تخلیقی فنکاری کا منہ بولتا (فریادی) ثبوت ہیں.

چوتھا مطلب..... کاغذی

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ "اللہ تعالی خوبصورت ہے اور اسے خوبصورتی پسند ہے." اسی طرح سورۃ والتین میں فرماتا ہے کہ "بے شک ہم نے انسان کو احسن (حسین ترین) تقویم (بناوٹ) میں بنایا" یعنی اللہ کی نظر میں جو بناوٹ سب سے زیادہ حسین تھی۔ اسی بناوٹ کو انسان کی تخلیق کیلئے پسند کیا.

مختصراً کہا جا سکتا ہے انسان اللہ کی نفیس ترین تخلیق ہے.

لیکن غالب نے سیدھا سیدھا نفیس کا لفظ کیوں نہیں لکھ دیا. کاغذی ہی کیوں لکھا؟

نفیس صرف نفاست اور خوبصورتی کا معنی دیتا ہے. لیکن کاغذی کا لفظ استعمال کر کے غالب نے ایک تیر سے دس شکار کر ڈالے ہیں۔ ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں خیال آئے کہ جوگی کیوں زبردستی کاغذی کے یہ دوردراز مطلب اخذ کرنے پر تُلا ہوا ہے. تو جواب ہے کہ دوسرا مصرعہ پڑھیے. جو کہتا ہے کہ "اس تصویر کے ہر پیکر کا پیرہن (لباس) کاغذی ہے." اپنی جلد کو دیکھ لیں. کیا یہ مگرمچھ اور گینڈے کے کھال جیسی موٹی ہے یا پتلی سی..؟

اسی میں ہماری اس شرح کی سند ہے. کہ اللہ کی بنائی ہوئی اس تصویر (کائنات) کے ہر پیکر (انسان) کا پیرہن (لباس) کاغذی ہے. اب شاید کوئی کہے کہ لباس کہاں ہم تو ننگے ہی پیدا ہوئے تھے. تو اس کیلئے جواب ہے کہ ہماری بوٹیاں ننگی نہیں آئی تھیں. ایک خوبصورت نفیس کاغذی کھال میں نفاست سے پیک شدہ تھیں. وہی جسے اہلِ علم فطری لباس کہتے ہیں. غالب نے اسی لباس کو بطور دلیل کاغذی پیرہن کہا ہے.

اب کاغذی کا ناپائیدار مطلب بھی ذہن میں لائیے. انسانی زندگی کا آبگینہ اتنا نازک ہے کہ ایک ذرا سا ہارٹ اٹیک , ایک 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی, ذرا سی منفی صفر سردی , کان میں آنے والی ایک آواز (دھماکہ بھی تو صوتی توانائی ہے) اسے ہستی سے نیستی میں بدل دیتی ہے. ذرا سا ہوا کا دباؤ کم ہوا نہیں آکسیجن کی کمی اور انسان ختم... ابھی تھا ابھی نہیں۔

کیا بشر کی بساط

آج ہے , کل نہیں

آخری مطلب:۔

دیوانِ غالب کے فارسی دیباچے میں غالب نے اپنے آپ کو دیوان میں موجود نقوش کا نقاش کہا ہے۔ اس لحاظ سے انہوں نے اپنے نقوش (اشعار) کی خوبصورتی کو اپنی قادرالکلامی کی دلیل بنایا ہے۔ کہ یہ خوبصورت نقش کس کی شوخیِ تحریر کا اعلان کر رہے ہیں؟ ان نقوش کی نفاست کا یہ عالم ہے ، کہ ہرنقش (شعر) نے کتاب کا کاغذی پیرہن اوڑھ رکھا ہے۔

حقیقت میں کوئی بھی لفظ لکھا نہیں جاتا ، بلکہ اس کی تصویر نقش کی جاتی ہے۔ اور اس نقش کے ظاہر ہونے / نظر آنے کیلئے ضروری ہے ، کہ اس نے کچھ پہنا ہوا ہو۔ پتھر کی لوح پر لکھے جانے الفاظ نے گویا ، پتھریلا لباس پہن رکھا ہے۔ لکڑی کی لوح پر لکھے جانے والے الفاظ کا لباس چوبی ہے۔ اسی طرح چمڑے پر لکھے ہوئے الفاظ کا پیرہن چرمی اور کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ کا لباس کاغذی ہی کہلائے گا۔

تمام مطالب کا خلاصہ اور آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر تخلیق اپنے خالق کے وجود کی دلیل ہوتی ہے

شرح نگار :۔ جوگی جادوگر (اویس قرنی)

 
 
 

Recent Posts

See All
حالات

حالات ایک دن سدھر جایں گے مگر تب تک کافی لوگ ! دل سے اتر جایں گے 😓

 
 
 
Untitled

اگر زندگی میں سب کچھ آسانی سے مل جاتا تو کوئی بھی خدا کو یاد نہ کرتا ۔زندگی نام ہے الجھنوں کا ،تکلیفوں کا ،مشکلات کا اور مصا ئب کا ۔ بہت...

 
 
 

Comments


Post: Blog2_Post
bottom of page