Untitled
- Amal atif

- Sep 30, 2022
- 1 min read
Updated: Oct 3, 2022
زندگی کا مقصد
زندگی کا مقصد ڈھونڈنے کے لیے علم ضروری ہے۔ یہ علم آپ کیسے حاصل کرتے ہیں؟ سوالات کے ذریعے ، کھلے دماغ کیساتھ۔فزکس کے نوبل انعام یافتہ رچرڈ فائنمین کہاکرتے تھے:
"میں چاہوں گا کہ میرے پاس وہ سوالات ہوں جنکے جواب نہ ہو نہ کہ وہ جوابات جن پر سوال نہ اُٹھایا جا سکے".
ہم میں سے ہر انسان زندگی کا مقصد تلاش کرنے میں مصروف ہے اور چاہتا ہے کہ اسے ایک بامقصد زندگی گزارنے کو ملے۔ یہاں دو مکاتبِ فکر بنتے ہیں۔
پہلے جو یہ کہتے ہیں کہ کسی شے کے بننے کے لیے پہلے اسکا مقصد ہونا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر آپکو بھوک لگی ہے تو آپ کھانا اس مقصد سے بنائیں گے کہ وہ آپکی بھوک مٹا سکے۔ گویا کھانا بننے سے پہلے اسکا مقصد طے ہو گیا۔
اب دوسرا مکتبۂ فکر یہ کہتا ہے کہ کسی شے کے وجود میں آنے کے بعد اسکا مقصد بھی آ جاتا ہے۔مثال کے طور پر جب بجلی ایجاد ہوئی تومائیکل فیرڈے سے کسی خاتون نے پوچھا کہ اسکا کیا مقصد ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم نہیں جانتے کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بجلی ہماری روزمرہ کی زندگی میں کتنی بامقصد ہے۔
لہذا یہ آپ پر منحصر ہے کہ زندگی کا مقصد آپ کیسے اور کس طرح سے تلاش کرتے ہیں مگر اس کے لئے کُھلے دماغ اور حقائق پر مبنی سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ اور سائنس کا بنیادی اصول بھی دراصل یہی سوچ ہے۔



Comments